ہم کو تمہارا ہجر منانے کا دکھ ہوا
ہم کو تمہارا ہجر منانے کا دکھ ہوا
دل کو بھی یار تجھ کو گنوانے کا دکھ ہوا
پیڑوں سے اڑ کے جانے پرندے کہاں گئے
دل کو شکار ہاتھ سے جانے کا دکھ ہوا
اک بار تیری آنکھ سے ہم نے ملائی آنکھ
پھر اس کے بعد آنکھ ملانے کا دکھ ہوا
شاید کہ بے اثر تھی محبت کی داستاں
بے کیف دوستوں کو سنانے کا دکھ ہوا
اس دل کے کینوس پہ جدائی کے رنگ تھے
تصویر آنسوؤں کی بنانے کا دکھ ہوا
رستے کی گرد اور تھی وحشت کی گرد اور
جو گرد بھی اڑائی اڑانے کا دکھ ہوا
وحشت کے راز آنکھ سے دل میں اتر گئے
اے دشت تجھ سے ہاتھ ملانے کا دکھ ہوا
دنیا ترے اصول بھی کتنے عجیب ہیں
اٹھتے ہوؤں کو آج گرانے کا دکھ ہوا
خود کو سمجھ رہا تھا وہ جنس گراں مگر
فیصلؔ مجھے تو دام گرانے کا دکھ ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.