Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہم کو تمہارا ہجر منانے کا دکھ ہوا

فیصل شہزاد

ہم کو تمہارا ہجر منانے کا دکھ ہوا

فیصل شہزاد

MORE BYفیصل شہزاد

    ہم کو تمہارا ہجر منانے کا دکھ ہوا

    دل کو بھی یار تجھ کو گنوانے کا دکھ ہوا

    پیڑوں سے اڑ کے جانے پرندے کہاں گئے

    دل کو شکار ہاتھ سے جانے کا دکھ ہوا

    اک بار تیری آنکھ سے ہم نے ملائی آنکھ

    پھر اس کے بعد آنکھ ملانے کا دکھ ہوا

    شاید کہ بے اثر تھی محبت کی داستاں

    بے کیف دوستوں کو سنانے کا دکھ ہوا

    اس دل کے کینوس پہ جدائی کے رنگ تھے

    تصویر آنسوؤں کی بنانے کا دکھ ہوا

    رستے کی گرد اور تھی وحشت کی گرد اور

    جو گرد بھی اڑائی اڑانے کا دکھ ہوا

    وحشت کے راز آنکھ سے دل میں اتر گئے

    اے دشت تجھ سے ہاتھ ملانے کا دکھ ہوا

    دنیا ترے اصول بھی کتنے عجیب ہیں

    اٹھتے ہوؤں کو آج گرانے کا دکھ ہوا

    خود کو سمجھ رہا تھا وہ جنس گراں مگر

    فیصلؔ مجھے تو دام گرانے کا دکھ ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے