اے مسیحا تری کیسی یہ مسیحائی ہے
اے مسیحا تری کیسی یہ مسیحائی ہے
پہلے عاشق تھا جو دل آج وہ سودائی ہے
اب تجھے کیسے بچاؤں گی مرے پیارے دل
تو نے اس شخص پہ مٹنے کی قسم کھائی ہے
اس کو سوچوں تو اذیت ہے بھلانے میں ہے موت
دل لگی مجھ کو یہ کس موڑ پہ لے آئی ہے
ہے اگر یوسفی کردار ترا اے جاناں
عشق بھی عام نہیں میرا زلیخائی ہے
جب سے صحرا کا سفر مجھ پہ ہوا ہے طاری
ایک وحشت کی ردا سر پہ مرے چھائی ہے
بعد مدت تو مرے فون کی قسمت جاگی
ساتھ ہم دونوں نے تصویر جو کھنچوائی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.