میرا تم ساتھ نہ دو گی تو کدھر جاؤں گا
میرا تم ساتھ نہ دو گی تو کدھر جاؤں گا
سر پٹک کر تری دہلیز پہ مر جاؤں گا
راہ الفت میں بچھاؤگی اگر خار جفا
خار کو پھول سمجھ کر میں گزر جاؤں گا
رخ سے چلمن کو ذرا اور اٹھا اے جاناں
رخ ترا دیکھ کے تھوڑا میں سنور جاؤں گا
ظاہراً ٹھیک ہوں اندر سے ہوں ٹوٹا پھوٹا
ہاتھ گر مجھ کو لگایا تو بکھر جاؤں گا
تیری الفت میں بھلا دوں گا زمانہ سارا
تم جو مل جاؤ تو دنیا سے مکر جاؤں گا
میری خاموش محبت کی یہ منزل ہوگی
بن کے احساس ترے دل میں اتر جاؤں گا
اس قدر دور نکل آیا ہوں اپنوں سے عظیمؔ
جانے کب لوٹ کے میں اپنے نگر جاؤں گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.