کیسے کٹے گی عمر یہ تحت الثری کے دن
کیسے کٹے گی عمر یہ تحت الثری کے دن
ڈرتا ہوں روشنی سے عجب ہیں سزا کے دن
بچپن سے زندگی کو مٹانے کی خو میں تھا
روشن جبین لڑکی نے بدلے ہیں آ کے دن
پت جھڑ کے موسموں میں ذریعہ ہیں سانس کا
ماضی کی ڈائری میں مقفل بلا کے دن
ملتے ہی مل گئی تھیں منازل کی مشعلیں
وہ خوش لباس لمس میں لایا چھپا کے دن
خوشبو بکھیر دی ہے ہوا کے گلاس میں
وہ پھول مل گیا ہے تھے جس سے صبا کے دن
کب تک ہوا کا لمس نکالوں چراغ سے
سوچا ہے بھول جاؤں میں تیری وفا کے دن
کاشفؔ کسی کا نام میں لیتا ہوں زیر لب
کہتا ہوں اپنے آپ سے یہ ہیں عطا کے دن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.