Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جو کھایا دھوکے پہ دھوکا تو آنکھ بھر آئی

مضطر اعظمی

جو کھایا دھوکے پہ دھوکا تو آنکھ بھر آئی

مضطر اعظمی

MORE BYمضطر اعظمی

    جو کھایا دھوکے پہ دھوکا تو آنکھ بھر آئی

    سمجھ میں آئی یہ دنیا تو آنکھ بھر آئی

    وہ پھر رہا تھا لبوں پر ہنسی سجائے ہوئے

    اسے قریب سے دیکھا تو آنکھ بھر آئی

    میں اس سے ہاتھ ملایا تھا مسکراتے ہوئے

    وہ ریل گاڑی میں بیٹھا تو آنکھ بھر آئی

    وفا کی راہ میں اتنے فریب کھائے ہیں

    کسی نے حال جو پوچھا تو آنکھ بھر آئی

    وہ ایک ابر کا ٹکڑا جو جھوم کر اٹھا

    دیار غیر میں برسا تو آنکھ بھر آئی

    مجھے وہ دیکھ کے اپنی نظر بچائے ہوئے

    مرے قریب سے گزرا تو آنکھ بھر آئی

    بہار آنے کو آئی چمن میں اے مضطرؔ

    کھلا نہ پھول جو دل کا تو آنکھ بھر آئی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے