جو کھایا دھوکے پہ دھوکا تو آنکھ بھر آئی
جو کھایا دھوکے پہ دھوکا تو آنکھ بھر آئی
سمجھ میں آئی یہ دنیا تو آنکھ بھر آئی
وہ پھر رہا تھا لبوں پر ہنسی سجائے ہوئے
اسے قریب سے دیکھا تو آنکھ بھر آئی
میں اس سے ہاتھ ملایا تھا مسکراتے ہوئے
وہ ریل گاڑی میں بیٹھا تو آنکھ بھر آئی
وفا کی راہ میں اتنے فریب کھائے ہیں
کسی نے حال جو پوچھا تو آنکھ بھر آئی
وہ ایک ابر کا ٹکڑا جو جھوم کر اٹھا
دیار غیر میں برسا تو آنکھ بھر آئی
مجھے وہ دیکھ کے اپنی نظر بچائے ہوئے
مرے قریب سے گزرا تو آنکھ بھر آئی
بہار آنے کو آئی چمن میں اے مضطرؔ
کھلا نہ پھول جو دل کا تو آنکھ بھر آئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.