ہو راحت جان اور علاج غم جاں تم
ہو راحت جان اور علاج غم جاں تم
اے جان چمن جان غزل جان جہاں تم
قاتل ہیں مرے ابرو و مژگان تمہارے
رکھتے ہو بھلا ساتھ یہ کیوں تیر و کماں تم
تقدیر تمہاری نہیں زنجیر غلامی
دشوار نہیں کچھ بھی رکھو عزم جواں تم
ممکن ہے مری جان چلی جائے بلا سے
رکھو گے مگر یاد مرا ضبط فغاں تم
بس اتنا کہا میں نے کہ مغرور بہت ہو
اور اس نے کہا بند رکھو منہ میں زباں تم
ہے آگ برابر کی لگی دونوں طرف سے
بے تاب یہاں ہم ہیں تو بے چین وہاں تم
مانا کہ ابھی بھی ہوں میں تقدیر کا مارا
مانا کہ ابھی تک ہو حسیں اور جواں تم
مجھ جیسا وفادار ملے گا نہ جہاں میں
ڈھونڈو گے مرے بعد مجھے جانے کہاں تم
اب میں بھی خریدوں گا وفا پیار و محبت
کھولو گے اگر یار کبھی دل کی دکاں تم
ہے گرچہ نہیں بات کوئی میری غزل میں
دیکھو گے نہیں اور کہیں حسن بیاں تم
یہ سچ ہے غزل کا میں تو استاذ نہیں ہوں
کہہ دے گا مرا شعر کہاں میں ہوں کہاں تم
محسوس میں کرتا ہوں تمہیں چھو نہیں پاتا
ہو کوئی حقیقت کہ کوئی ریگ رواں تم
افسوس تمہیں ہوگا مرے بعد بہت پر
پاؤ گے نہیں میرا کہیں نام و نشاں تم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.