ہماری سمت ذرا اب وہ دیکھتا کم ہے
ہماری سمت ذرا اب وہ دیکھتا کم ہے
تعلقات تو بہتر ہیں واسطہ کم ہے
ملا تو کرتا ہے سب سے وہ مسکراتے ہوئے
مگر خلوص جسے کہیے وہ ذرا کم ہے
خلوص و پیار کے چرچے ہیں ہر طرف لیکن
اس عہد نو میں مگر دوستو وفا کم ہے
ہر ایک شخص سمجھتا ہے رہنما خود کو
یہی سبب ہے یہاں پر جو قافلہ کم ہے
ہمیشہ ہچکیاں آتی ہیں ان کی یادوں کی
یہ کس نے کہہ دیا یادوں کا سلسلہ کم ہے
میں مصلحت سے تعلق ذرا نہیں رکھتا
یہی سبب ہے کہ لوگوں سے رابطہ کم ہے
حسین اس لیے خود کو سبھی سمجھتے ہیں
کہ اپنے شہر میں اے نورؔ آئنہ کم ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.