Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہماری سمت ذرا اب وہ دیکھتا کم ہے

نور قریشی

ہماری سمت ذرا اب وہ دیکھتا کم ہے

نور قریشی

MORE BYنور قریشی

    ہماری سمت ذرا اب وہ دیکھتا کم ہے

    تعلقات تو بہتر ہیں واسطہ کم ہے

    ملا تو کرتا ہے سب سے وہ مسکراتے ہوئے

    مگر خلوص جسے کہیے وہ ذرا کم ہے

    خلوص و پیار کے چرچے ہیں ہر طرف لیکن

    اس عہد نو میں مگر دوستو وفا کم ہے

    ہر ایک شخص سمجھتا ہے رہنما خود کو

    یہی سبب ہے یہاں پر جو قافلہ کم ہے

    ہمیشہ ہچکیاں آتی ہیں ان کی یادوں کی

    یہ کس نے کہہ دیا یادوں کا سلسلہ کم ہے

    میں مصلحت سے تعلق ذرا نہیں رکھتا

    یہی سبب ہے کہ لوگوں سے رابطہ کم ہے

    حسین اس لیے خود کو سبھی سمجھتے ہیں

    کہ اپنے شہر میں اے نورؔ آئنہ کم ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے