دشمنوں سے بھی میں نے پیار کیا
دشمنوں سے بھی میں نے پیار کیا
اور یہ کام بار بار کیا
وہی شانے پہ وار کرتا ہے
سر پہ جس کو کبھی سوار کیا
اس کو ڈر لگ رہا ہے پانی سے
جس نے دریا نشے میں پار کیا
زیست کیا ہے وہی بتائے گا
موت کا جس نے انتظار کیا
شکریہ زندگی میں آنے کا
دشت دل تو نے لالہ زار کیا
میر صاحب سے پوچھنا مشتاقؔ
کیوں گریبان تار تار کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.