کرتی ہیں سجدے کہاں پیشانیاں
کرتی ہیں سجدے کہاں پیشانیاں
کہنے میں آسان ہیں آسانیاں
بیٹے بازو بنتے ہیں یہ ٹھیک ہے
بیٹیاں ہوتی ہیں گھر کی رانیاں
جب بھی وعدہ کرتا ہے کوئی وزیر
جھوٹ کو ہوتی ہیں تب حیرانیاں
بچپنا گھٹ گھٹ کے گزرا ہے مرا
وقت نے کیں اس قدر شیطانیاں
مفت مل جائے تو کیسی اہمیت
رائیگاں جاتی ہیں کچھ قربانیاں
ایک بھی گھر بچ نہیں پایا یہاں
شہر دل کو کھا گئیں ویرانیاں
حال دل اپنا تو ایسا ہے وقیعؔ
ظلمتوں کے بیچ ہیں تابانیاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.