Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کرتی ہیں سجدے کہاں پیشانیاں

سید محمد وقیع

کرتی ہیں سجدے کہاں پیشانیاں

سید محمد وقیع

MORE BYسید محمد وقیع

    کرتی ہیں سجدے کہاں پیشانیاں

    کہنے میں آسان ہیں آسانیاں

    بیٹے بازو بنتے ہیں یہ ٹھیک ہے

    بیٹیاں ہوتی ہیں گھر کی رانیاں

    جب بھی وعدہ کرتا ہے کوئی وزیر

    جھوٹ کو ہوتی ہیں تب حیرانیاں

    بچپنا گھٹ گھٹ کے گزرا ہے مرا

    وقت نے کیں اس قدر شیطانیاں

    مفت مل جائے تو کیسی اہمیت

    رائیگاں جاتی ہیں کچھ قربانیاں

    ایک بھی گھر بچ نہیں پایا یہاں

    شہر دل کو کھا گئیں ویرانیاں

    حال دل اپنا تو ایسا ہے وقیعؔ

    ظلمتوں کے بیچ ہیں تابانیاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے