ذرا دیکھ آ کے تو ہم نشیں ترے بن مرا جو یہ حال ہے
ذرا دیکھ آ کے تو ہم نشیں ترے بن مرا جو یہ حال ہے
کبھی اوج پر ہیں اداسیاں کبھی دھڑکنوں پہ زوال ہے
نہیں چین تم کو سنے بنا نہ قرار آئے ملے بنا
ہیں جو میلوں دور کے فاصلے انہی فاصلوں کا ملال ہے
میں نے عمر یوں ہی گزار دی تری چاہ میں تری راہ میں
مری آرزو کو خبر نہ تھی کہ محال تیرا وصال ہے
مری کیفیت بھی عجیب ہے کبھی شاد ہوں کبھی محو غم
وہ خزاں ہو چاہے بہار ہو مرا ایک جیسا ہی حال ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.