سر طور جلنے والا جو نہ اک شرار ہوتا
سر طور جلنے والا جو نہ اک شرار ہوتا
تو کلام لن ترانی کہاں آشکار ہوتا
یہ کمال مصلحت ہے کہ چھپا ہے وہ نظر سے
جو وہ بے نقاب ہوتا تو جہاں غبار ہوتا
یہ حجاب عقل ہٹتا تو وصال یار ملتا
جو یہ وہم خلد مٹتا تو نہ انتظار ہوتا
رہ معرفت نے مجھ کو وہ مقام خاص بخشا
جو انا کو میں نہ کھوتا تو ذلیل و خوار ہوتا
میں وہ قطرہ ہوں کہ جس کو ملی وسعت سمندر
جو انا کی حد میں رہتا تو بس ایک دھار ہوتا
میں عدم سے کیا چلا تھا کہ وجود ہی ہے آفت
جو نہ میں نمود ہوتا تو نہ سوگوار ہوتا
یہ جو زہد کا ہے دعویٰ یہ تو مصلحت ہے دل کی
جو گناہ میں مزا تھا وہ نہ آشکار ہوتا
اسی آستاں پہ راشدؔ ملا تاج پادشاہی
جو خدا کا در نہ ملتا تو کہاں قرار ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.