کوئی منظر پر خطر اب دل کو دہلاتا نہیں
کوئی منظر پر خطر اب دل کو دہلاتا نہیں
جو بھی دامن اب چھڑا لے تو میں کتراتا نہیں
اس نے سوچا تھا بچھڑ کر خوش رہے گا وہ مگر
اب پریشاں ہے کوئی آپس میں ملواتا نہیں
دل نے شریانوں کے ذریعے عشق کی ترسیل کی
بس گیا ہے روح میں عشق اور اب جاتا نہیں
آسماں سر پر نہیں ہے اور زمیں بھی کھو گئی
کوئی رستہ کوئی منزل میرا دل پاتا نہیں
مجھ کو بھی یوسف کی خوشبو آ رہی ہے دیر سے
میرے یوسف کا کوئی کرتا مگر لاتا نہیں
کیا ابو القاسم کے اس فرمان سے غافل ہے تو
پھول تکیہ اور خوشبو کوئی ٹھکراتا نہیں
خود گریباں چاک کر کے پھر علم بنوا لیا
عزم ہے اب پیرہن میں کوئی سلواتا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.