ہم نے متاع جان کو تم پر لٹا دیا
ہم نے متاع جان کو تم پر لٹا دیا
تم نے بڑے سکون سے ہم کو بھلا دیا
لوگوں نے ہم سے درد کی تفصیل پوچھ لی
ہم نے بھی شیشہ تھام کے نیچے گرا دیا
چشمان انتظار کو اس کا وصال ہو
جس کے ملن کی آس نے ہم کو تھکا دیا
ہم نے بھی جانے والے کو روکا نہیں کبھی
جس نے کہا کہ جانا ہے رستہ بنا دیا
محفل عروج پر تھی کہ میں نے غزل پڑھی
داد سخن میں لوگوں نے دریا بہا دیا
وہ کہتا تھا فراق میں مر جاؤں گا مگر
میں نے بھی اس کو ہجر میں جی کر دکھا دیا
فیضیؔ بڑے تپاک سے ملتے رہے اسے
پھر یوں ہوا کہ یار نے ہم کو بھلا دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.