دید کو ترسی نگاہوں پہ ہویدا ہو جائے
دید کو ترسی نگاہوں پہ ہویدا ہو جائے
پردۂ غیب اٹھا دے کوئی چہرہ ہو جائے
مستقل اس میں بسائیں گے تمہیں جان مراد
دل ذرا درد سے کچھ اور شناسا ہو جائے
خواہش رقص جنوں اور دبائیں کب تک
پا بہ جولاں ہی سہی آج تماشا ہو جائے
حرف آتا ہے تو آئے مری تمثالوں پر
غیر ممکن ہے کوئی شہر میں تجھ سا ہو جائے
اس سے ملنے نہیں دیتی ہے انا کی دیوار
یہ کسی روز گرا دوں تو وہ میرا ہو جائے
ہوس دید ہی آنکھوں میں نہیں جب باقی
کیا عجب ہے کہ جو دل بھی کبھی صحرا ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.