دھڑکتی شام کی تنہائی میں رلاؤں اسے
دھڑکتی شام کی تنہائی میں رلاؤں اسے
جو میرے بس میں ہو پھر یاد بھی نہ آؤں اسے
وہ مل گیا کہ جدائی کا جس کی رنج نہ تھا
جدا جو ہو گیا کس طرح بھول جاؤں اسے
جسے قریب سے جی بھر کے دیکھ سکتا ہوں
یہ کیا ضرور کہ اب ہاتھ بھی لگاؤں اسے
وہ پاس ہو تو ہر اک بات پر بگڑ جاؤں
وہ دور ہو تو بڑی چاہ سے بلاؤں اسے
وہ درد بن کے مری روح میں اتر جائے
میں ابر بن کے کڑی دھوپ سے بچاؤں اسے
نظر کے آئنہ خانے بھی ہو گئے ویراں
خرابۂ دل تنہا میں کیا بساؤں اسے
یہ سوچتا ہوں کہ جس آگ سے میں راکھ ہوا
کسی بہانے اب اس آگ میں جلاؤں اسے
بہار بن کے ہے آباد دل میں جو محسنؔ
خزاں کی رت کا کبھی آئنہ دکھاؤں اسے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.