Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دھڑکتی شام کی تنہائی میں رلاؤں اسے

محسن احسان

دھڑکتی شام کی تنہائی میں رلاؤں اسے

محسن احسان

MORE BYمحسن احسان

    دھڑکتی شام کی تنہائی میں رلاؤں اسے

    جو میرے بس میں ہو پھر یاد بھی نہ آؤں اسے

    وہ مل گیا کہ جدائی کا جس کی رنج نہ تھا

    جدا جو ہو گیا کس طرح بھول جاؤں اسے

    جسے قریب سے جی بھر کے دیکھ سکتا ہوں

    یہ کیا ضرور کہ اب ہاتھ بھی لگاؤں اسے

    وہ پاس ہو تو ہر اک بات پر بگڑ جاؤں

    وہ دور ہو تو بڑی چاہ سے بلاؤں اسے

    وہ درد بن کے مری روح میں اتر جائے

    میں ابر بن کے کڑی دھوپ سے بچاؤں اسے

    نظر کے آئنہ خانے بھی ہو گئے ویراں

    خرابۂ دل تنہا میں کیا بساؤں اسے

    یہ سوچتا ہوں کہ جس آگ سے میں راکھ ہوا

    کسی بہانے اب اس آگ میں جلاؤں اسے

    بہار بن کے ہے آباد دل میں جو محسنؔ

    خزاں کی رت کا کبھی آئنہ دکھاؤں اسے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے