ملے ہیں زخم جو دل کو گلاب کیا دیتے
ملے ہیں زخم جو دل کو گلاب کیا دیتے
اجاڑ دشت کو ریشم کا خواب کیا دیتے
جو تیرگی کی حدوں میں کھڑا رہا خود ہی
ہم ایسے شخص کو پھر ماہتاب کیا دیتے
نچوڑ لائے ہیں آنکھوں سے عمر بھر کا ملال
اب اس سے بڑھ کے تمہیں ہم شراب کیا دیتے
ہمارے پاس بچی تھی فقط ہماری انا
تو اور اس کے علاوہ جناب کیا دیتے
کتاب زیست کے اوراق تھے سبھی خالی
تمہارے نام کا ہم انتساب کیا دیتے
خرید لائے تھے بازار مصر سے خود کو
تمہیں ہم اپنی وفا کا حساب کیا دیتے
ہماری بزم کے منظر ہی جب ہوئے خاموش
کسی پکار کا کوئی جواب کیا دیتے
تھے خود ہی پیاس کے صحرا میں ہم تو گم اے خمارؔ
کسی کو جھیل کا ہم پھر سراب کیا دیتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.