ایک مدت سے تمناؤں کی ویرانی میں ہوں
ایک مدت سے تمناؤں کی ویرانی میں ہوں
مجھ کو کیا تیری خبر میں خود پریشانی میں ہوں
کان رکھتا ہے تو سن آ کر مجھے تنہائی میں
داستان آرزو ہوں آنکھ کے پانی میں ہوں
شاخ ہوں لیکن کوئی پتہ نہیں ہے جسم پر
اے ہوائے سرخ آ لے جا کہ عریانی میں ہوں
آئنوں کے درمیاں رہتی تھی میری زندگی
آج ان سے دور ہو کر بھی میں حیرانی میں ہوں
کس لیے بیدار رکھتا ہوں میں اپنے آپ کو
اے گئے لمحے بتا میں کس پشیمانی میں ہوں
ذہن میں رہتی ہیں پھر کیوں خوف کی پرچھائیاں
میں اگر آصفؔ کسی غم کی نگہبانی میں ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.