دیکھتے دیکھتے تدبیر بدل دیتا ہے
دیکھتے دیکھتے تدبیر بدل دیتا ہے
جنگ کا فیصلہ اک تیر بدل دیتا ہے
صرف اتنی ہے رعایت ہمیں داروغہ کی
زنگ لگ جائے تو زنجیر بدل دیتا ہے
ایک پتھر کے خدا نے یہ بتایا ہے مجھے
کوئی تیشہ ہے جو تقدیر بدل دیتا ہے
تپتے صحرا کو بنا لیتا ہے ایواں اپنا
عشق انسان کی جاگیر بدل دیتا ہے
یوں الجھتا ہے تری یاد کا نقشہ اے دوست
دیکھ یکسر مری تعمیر بدل دیتا ہے
سادگی جامۂ غالبؔ ہے بظاہر لیکن
روح میں اپنی اسے میرؔ بدل دیتا ہے
مڑ کے دیکھا تو سر بام وہ جلتا منظر
میرا اک لمحۂ تاخیر بدل دیتا ہے
عونؔ اس دور کا رانجھا ہے عجب سہل مزاج
خوف رسوائی سے جو ہیر بدل دیتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.