وہ جھیل اور شام کا منظر کدھر گیا
وہ جھیل اور شام کا منظر کدھر گیا
تصویر دیکھ کر مرا چہرہ اتر گیا
کچھ آشنا یقین کے اس پار اتر گئے
رستہ کسی کا نیل کے پانی سے بھر گیا
وجدان کے سفر میں سکوں کی تلاش میں
اک ناتوان وجد کی حالت میں مر گیا
پھر سے کئی درخت مجھے کاٹنے پڑے
ناداں سمجھ رہے تھے کہ طوفاں گزر گیا
اظہرؔ تلاش حق میں زمیں کھودنی پڑی
پھر منہدم وجود کا ملبہ بکھر گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.