ربط سا اک ربط ہے تصویر سے تصویر کا
ربط سا اک ربط ہے تصویر سے تصویر کا
یہ کسی کی یاد ہے یا سلسلہ زنجیر کا
خواب سے تعبیر تک سو مرحلے ہیں درمیاں
خواب دیکھے جا تصور بھی نہ کر تعبیر کا
دیکھنے والے جو ہے پیش نظر اس پر نہ جا
دوسرا رخ بھی تو ہوتا ہے کسی تصویر کا
اور کیا آخر کسی کے ہاتھ میں پڑھتے ہیں لوگ
ہاتھ کی تحریر آئینہ ہے کس تحریر کا
گھر تو لٹتے بھی ہیں لیکن دل کا گھر ایسا لٹا
شائبہ تک بھی نہ چھوٹا حسرت تعمیر کا
ایک جانب ہیں مشینیں دوسری جانب ہیں دل
مسئلہ الجھا ہوا ہے شعر کی تفسیر کا
کٹ گئی زنجیر لیکن غور سے دیکھے کوئی
طوق بن کر رہ گیا حلقہ اسی زنجیر کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.