کتنی پر کیف زندگی ہے ابھی
کتنی پر کیف زندگی ہے ابھی
تیری تصویر بولتی ہے ابھی
خون روتی ہے صبح افسردہ
اک ستارے نے جان دی ہے ابھی
تو ہے چپ اور ترا بدن خاموش
رات گویا نہیں ہوئی ہے ابھی
رفتہ رفتہ بنے گی حکم یہی
جو گزارش نئی نئی ہے ابھی
چاندنی ہجر خامشی خوشبو
کیا عذابوں میں کچھ کمی ہے ابھی
ہاں جلا اپنی آگہی کے چراغ
شہر محروم روشنی ہے ابھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.