خواب آئے تو بے شمار آئے
خواب آئے تو بے شمار آئے
جو بھی آئے وہ دل فگار آئے
لگ گئی بھیڑ میرے آنگن میں
مجھ سے ملنے جو میرے یار آئے
میں نے اس کو اٹھا کے چوم لیا
میرے رستے میں جو بھی خار آئے
ان کی تصویر ہاتھ میں لے کر
سوچتا ہوں کہ کچھ قرار آئے
بیٹھ سکتا تھا چھاؤں میں اس کی
راہ میں پیڑ سایہ دار آئے
میں نے آئینہ رکھ کے دیکھ لیا
جو بھی چہرے تھے داغ دار آئے
ہم نے دیکھا اسے حسنؔ جس دم
عکس آنکھوں میں ہم اتار آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.