Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

در تو کیا چیز ہے دیوار میں ڈھل سکتا ہوں

کاشف اورا

در تو کیا چیز ہے دیوار میں ڈھل سکتا ہوں

کاشف اورا

MORE BYکاشف اورا

    در تو کیا چیز ہے دیوار میں ڈھل سکتا ہوں

    میں محبت میں فقط ہاتھ ہی مل سکتا ہوں

    تیری تصویر کے لب تو نہیں کھلنے والے

    سر پٹخنے کو میں دیوار بدل سکتا ہوں

    میری مدہوش بدن پھول نما لڑکی سن

    تیرا پتھر ہوں اور ایڑی سے پگھل سکتا ہوں

    کونسی بات تجھے مجھ سے خفا کرتی ہے

    یار میں تیرے اشاروں پہ بھی چل سکتا ہوں

    تم مرے ساتھ رہو اور بہت دھیان رہے

    میں کسی وقت کسی سمت نکل سکتا ہوں

    میری خواہش اسے معلوم کہاں ہے کاشفؔ

    وہ سمجھتی ہے کہ میں بوسوں سے ٹل سکتا ہوں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے