در تو کیا چیز ہے دیوار میں ڈھل سکتا ہوں
در تو کیا چیز ہے دیوار میں ڈھل سکتا ہوں
میں محبت میں فقط ہاتھ ہی مل سکتا ہوں
تیری تصویر کے لب تو نہیں کھلنے والے
سر پٹخنے کو میں دیوار بدل سکتا ہوں
میری مدہوش بدن پھول نما لڑکی سن
تیرا پتھر ہوں اور ایڑی سے پگھل سکتا ہوں
کونسی بات تجھے مجھ سے خفا کرتی ہے
یار میں تیرے اشاروں پہ بھی چل سکتا ہوں
تم مرے ساتھ رہو اور بہت دھیان رہے
میں کسی وقت کسی سمت نکل سکتا ہوں
میری خواہش اسے معلوم کہاں ہے کاشفؔ
وہ سمجھتی ہے کہ میں بوسوں سے ٹل سکتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.