محبت ہم پس دیوار کرتے ہیں
محبت ہم پس دیوار کرتے ہیں
مگر نفرت سر بازار کرتے ہیں
کوئی اکرام سے ہم کو نوازے کیوں
کہاں ہم مدحت دربار کرتے ہیں
کئی باتیں چھپاتے ہیں دریچے بھی
کئی باتیں در و دیوار کرتے ہیں
تجھے لوٹا رہیں ہیں تلخیاں تیری
ترے ہی نام یہ اشعار کرتے ہیں
مزاج اب موسموں کا کس قدر بدلا
سنہری دھوپ کو بیمار کرتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.