ہوا الٹی چلی ہے آج کل کیسی زمانے میں
ہوا الٹی چلی ہے آج کل کیسی زمانے میں
لیے جاتے ہیں میکش کھینچ کر قاضی کو تھانے میں
خزاں آتے ہی تنکا تنکا اپنا بن گیا دشمن
رہے یا آگ لگ جائے اب ایسے آشیانے میں
شب تاریک غم میں بیکسی کا اب یہ عالم ہے
اجل بھی خوف کھاتی ہے مرے بالیں پہ آنے میں
بجھا دے پیاس جاں بازوں کی آب تیغ سے قاتل
سنا ہے اجر ملتا ہے بہت پانی پلانے سے
ترے تیر نظر سے دل جگر دونوں ہوئے زخمی
کیے ہیں کھیت دو نخچیر تو نے اک نشانے میں
وہ ہے مختار کل بندوں کو چاہے جس طرح رکھے
کسی کا دخل کیا بسملؔ خدا کے کارخانے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.