ضبط ٹوٹا مرا دسمبر میں
ضبط ٹوٹا مرا دسمبر میں
جم کے برسی گھٹا دسمبر میں
اس کا لہجہ بدلتی رت کی طرح
سرد سا ہو گیا دسمبر میں
کیا مجھے بھی وہ یاد کرتا ہے
جو ہوا تھا جدا دسمبر میں
چند ٹوٹے قلم کتابیں پھول
یاد کیا کیا کیا دسمبر میں
سال بھر اس قدر اداس نہ تھا
جس قدر ہو گیا دسمبر میں
اس نے لکھی جو داستاں اظہرؔ
میں نے اس کو پڑھا دسمبر میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.