وہ مجھ سے روز یہ کہتی ہے کیا مصیبت ہے
وہ مجھ سے روز یہ کہتی ہے کیا مصیبت ہے
ہوا کے واسطے میرا دیا مصیبت ہے
مصیبتوں میں گھرا شخص ہوں سو جانتا ہوں
کہ اس نے خط میں مجھے کیوں لکھا مصیبت ہے
وہی تو خلق خدا کے لیے مصیبت ہیں
جو سوچتے ہیں کہ خلق خدا مصیبت ہے
وہ میرے ساتھ کسی طور چل نہیں سکتا
زمانے بھر سے ہی میری جدا مصیبت ہے
نہ اب وہ حسن و جوانی نہ تمکنت نہ غرور
مصیبتوں میں وہ خود مبتلا مصیبت ہے
ہر ایک شعر مصیبت سے متصل ٹھہرا
ردیف پہلے تھی اب قافیہ مصیبت ہے
گزار لیتے ہیں دن تو کسی طرح نحریرؔ
مگر وہ رات جسے کاٹنا مصیبت ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.