مجھ کو راحت کا زمانہ چاہئے
مجھ کو راحت کا زمانہ چاہئے
نام تیرا لب پہ آنا چاہئے
جس نے دل کو کر دیا ہے تار تار
زخم کیا اس کو دکھانا چاہئے
جسم کہتا ہے کہ تو آرام کر
روح کہتی ہے کمانا چاہئے
کوہ سے کم تو نہیں احسان یہ
بار اپنا خود اٹھانا چاہئے
میری تنہائی نے یہ مجھ سے کہا
کب کسی کو آزمانا چاہئے
زخم دل پہلے ہی رکھتا ہوں تو پھر
کیوں اسے اپنا بنانا چاہئے
ایک لڑکی مجھ کو اچھی لگتی ہے
ماں کے پیروں کو دبانا چاہئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.