ماحول درد و غم کا ہے منظر دھواں دھواں
ماحول درد و غم کا ہے منظر دھواں دھواں
جذبات ہو گئے ہیں بکھر کر دھواں دھواں
بھڑکی ہوئی دلوں میں ہے کیوں نفرتوں کی آگ
کیوں ہو رہے ہیں سب یہاں جل کر دھواں دھواں
مہر و وفا خلوص محبت کہیں جسے
انسان کا ہوا ہے وہ رہبر دھواں دھواں
تیرے بغیر ہم نے گزاری ہے جب بھی شام
چھایا رہا ہماری نظر پر دھواں دھواں
کیسے کہیں کہ خوش ہیں جدا ہو کے تم سے ہم
منظر تو دل کے رہتے ہیں اکثر دھواں دھواں
فرحانؔ جب کبھی بھی لگی جنگلوں میں آگ
پھیلا رہا ندی کے بھی اوپر دھواں دھواں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.