تعین راہ کا کرنا ہو جو اقدام سے پہلے
تعین راہ کا کرنا ہو جو اقدام سے پہلے
تو پھر تم مشورہ کرنا کسی ناکام سے پہلے
شب فرقت کا سوچا تو تمنا بارہا کی ہے
مرا دم ہی نکل جائے غروب شام سے پہلے
بھری محفل میں نظریں جب ملیں دل تھام کر بیٹھے
کبھی بہکے نہیں تھے ہم ترے اس جام سے پہلے
جوانی لٹ گئی جذبات پژمردہ ہوئے سارے
کبھی سوچا نہیں تھا عشق کے انجام سے پہلے
بھلا منزل تلک کیسے کبھی ان کی رسائی ہو
مسلسل دیکھتے چھالے ہیں جو ہر گام سے پہلے
یہ دنیا ماں نہیں ہے جو تمہیں گرنے نہیں دے گی
سنبھلنا خود ہی سیکھو گردش ایام سے پہلے
مرے دامن کو چیرا ہے وہ لیکن پارسا ٹھہری
مگر میں یوسف دوراں تھا اس الزام سے پہلے
تمہارے دل کی تختی پر ہمارا نام ہے لیکن
یہ کس کا نام کندہ تھا ہمارے نام سے پہلے
محبت روح کے گہرے تعلق کو جو کہتے ہیں
محبت خود وہ کرتے ہیں انہیں اجسام سے پہلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.