کیسے ممکن ہے تمہارے بن مرا یہ دل رہے
کیسے ممکن ہے تمہارے بن مرا یہ دل رہے
سوچ آوارہ رہے اور گمشدہ منزل رہے
آپ کا سن کر مصائب خود گریزاں ہو گئے
آپ کے ہوتے ہوئے کیسے کوئی مشکل رہے
پھر تجلی کے لیے میں مضطرب ہونے لگا
جب تمنا میں نے کی ہے طور کیوں حائل رہے
کچھ وہاں پر کٹ رہے ہیں کچھ یہاں پر ڈوبتے
ایسی حالت دیکھ کر کیسے سکوں سے دل رہے
شرم آتی ہے مجھے اس منہ زبانی عشق پر
دل کی حالت جان کر بھی جو سدا غافل رہے
میں ابھی تک جاگتا ہوں رات بھی سونے لگی
رات بھی حیران ہے اب کیسے یہ بسمل رہے
گفتگو یاروں سے ہو اور چائے کا بھی دور ہو
جنتوں میں بھی خدایا ایسی اک محفل رہے
وہ مدد کو آئے نہ آئے رسائی ہو نہ ہو
ڈوبنے والے کی نظروں میں مگر ساحل رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.