Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دیکھو نہ تماشا مری اس در بدری کا

ثاقب قمری مصباحی

دیکھو نہ تماشا مری اس در بدری کا

ثاقب قمری مصباحی

MORE BYثاقب قمری مصباحی

    دیکھو نہ تماشا مری اس در بدری کا

    یہ فیض جنوں خیز ہے آشفتہ سری کا

    اک زخم تمنا کی ہے پھر سے مجھے خواہش

    مرہون ہوا جب سے تری چارہ گری کا

    تجھ سے ہی مرے روزۂ امید کا افطار

    تو آخری لقمہ ہے طعام سحری کا

    دزدیدہ نگاہوں سے تکے ہے تو مسلسل

    کیا خوب ہے انداز تری بے خبری کا

    جن کے لیے ہو عشق و ہوس ایک برابر

    ہوگا نہ علاج اس کی پریشاں نظری کا

    کیا داد وفا دیجیے کیوں عشق میں مریے

    کچھ کام ہے دامن میں ابھی بخیہ گری کا

    میں آج جو اس طرح غزل لکھنے لگا ہوں

    یہ حکم دل آویز ہے خوابوں کی پری کا

    کیا عذر ستم لائیں گے کل روز قیامت

    ہوگا جو حساب آپ کی بیداد گری کا

    ہم جن کے سبب آج یوں ناکارہ ہوئے ہیں

    طعنہ وہی دیتے ہیں ہمیں بے ہنری کا

    اک خدشۂ دشنام طرازی سا ہے ورنہ

    کچھ ایسا برا کام نہیں نامہ بری کا

    میں اپنے کسی دوست کو کیا راز بتاؤں

    ہر ایک کو ہے شوق مری پردہ دری کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے