دیکھو نہ تماشا مری اس در بدری کا
دیکھو نہ تماشا مری اس در بدری کا
یہ فیض جنوں خیز ہے آشفتہ سری کا
اک زخم تمنا کی ہے پھر سے مجھے خواہش
مرہون ہوا جب سے تری چارہ گری کا
تجھ سے ہی مرے روزۂ امید کا افطار
تو آخری لقمہ ہے طعام سحری کا
دزدیدہ نگاہوں سے تکے ہے تو مسلسل
کیا خوب ہے انداز تری بے خبری کا
جن کے لیے ہو عشق و ہوس ایک برابر
ہوگا نہ علاج اس کی پریشاں نظری کا
کیا داد وفا دیجیے کیوں عشق میں مریے
کچھ کام ہے دامن میں ابھی بخیہ گری کا
میں آج جو اس طرح غزل لکھنے لگا ہوں
یہ حکم دل آویز ہے خوابوں کی پری کا
کیا عذر ستم لائیں گے کل روز قیامت
ہوگا جو حساب آپ کی بیداد گری کا
ہم جن کے سبب آج یوں ناکارہ ہوئے ہیں
طعنہ وہی دیتے ہیں ہمیں بے ہنری کا
اک خدشۂ دشنام طرازی سا ہے ورنہ
کچھ ایسا برا کام نہیں نامہ بری کا
میں اپنے کسی دوست کو کیا راز بتاؤں
ہر ایک کو ہے شوق مری پردہ دری کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.