بڑے بڑے کئی عزت مآب دیکھے ہیں
بڑے بڑے کئی عزت مآب دیکھے ہیں
زمیں پہ چلتے ہوئے آفتاب دیکھے ہیں
فریب و مکر کے ڈالے رہے جو چہروں پر
اترتے ہم نے انہیں کے نقاب دیکھے ہیں
رہ سفر میں وہ تھک جائیں گے بھلا کیسے
جنہوں نے منزلیں پانے کے خواب دیکھے ہیں
کسی کے دام میں آنا تو اب نہیں ممکن
سراب ہم نے بڑے بے حساب دیکھے ہیں
رہی ہیں کاوشیں جن کی جنون کی حد تک
ہمیشہ لوگ وہی کامیاب دیکھے ہیں
تو کیا ہوا جو ہیں صفحات آج نفرت کے
ہزاروں ہم نے محبت کے باب دیکھے ہیں
ہر ایک بار ملے زخم ہم کو خاروں سے
چمن میں جب بھی شگفتہ گلاب دیکھے ہیں
یقین ہے مجھے ارشادؔ وقت بدلے گا
کہ اس زمیں نے بڑے انقلاب دیکھے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.