مجھے لگا تھا یہیں کہیں ہے کہیں نہیں ہے
مجھے لگا تھا یہیں کہیں ہے کہیں نہیں ہے
بغیر تیرے سکوں نہیں ہے کہیں نہیں ہے
سند وراثت کی لے کے کب سے بھٹک رہا ہوں
یہ میرے حصے کی جو زمیں ہے کہیں نہیں ہے
جہاں بھی جاؤ فقط ملے گا حسین تم کو
یزید لیکن کہیں نہیں ہے کہیں نہیں ہے
بہت ہے ڈھونڈا مگر مصیبت کے ان دنوں میں
جو ایک عرصے سے ہم نشیں ہے کہیں نہیں ہے
قسم تمہاری میں پوری دنیا کو دیکھ آیا
تمہارے جیسا کوئی نہیں ہے کہیں نہیں ہے
مرے مقدر کے آسماں میں وہ اک ستارہ
مجھے پتہ ہے مجھے یقیں ہے کہیں نہیں ہے
پناہ دے کر زبان یاروں کی لڑکھڑائی
عدو سے بولے رضاؔ یہیں ہے کہیں نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.