Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سرد راتوں کی ردا ڈوبتی نیندوں کی تھکن

سرمد صہبائی

سرد راتوں کی ردا ڈوبتی نیندوں کی تھکن

سرمد صہبائی

MORE BYسرمد صہبائی

    سرد راتوں کی ردا ڈوبتی نیندوں کی تھکن

    چہرۂ صبح سے ٹوٹی مرے خوابوں کی تھکن

    آنکھ میں پگھلے ہوئے سانولے چہروں کی نمی

    دھیان میں گونجتی خاموش صداؤں کی تھکن

    ایک سایا بھی نہ ابھرا مری گلیوں کے قریب

    راستے کھا گئے پتھرائی نگاہوں کی تھکن

    شل ہوئے جاتے ہیں ہر پیڑ کے سوکھے بازو

    ڈھل گئی زرد خزاؤں میں بہاروں کی تھکن

    باغ میں پھیلتی تنہائی کے بوجھل پاؤں

    گرتے پتوں کی تھکن گرم دوپہروں کی تھکن

    دل پہ اک بار سا خاموش تمناؤں کی دھول

    ہونٹ پر جمتی ہوئی ان کہی باتوں کی تھکن

    یاد کے دشت میں سہمے ہوئے آہو کی طرح

    گھومتی پھرتی رہی ہے مری سوچوں کی تھکن

    اک ترے جسم کی سج دھج میں سمٹ آئی ہے

    جوش تخلیق سے گھبرائے خداؤں کی تھکن

    آنکھ میں آتے زمانوں کے خلاؤں کا سکوت

    ذہن میں بیتی ہوئی ہانپتی صدیوں کی تھکن

    میرے اعمال میں چیخے ہے بدی کی وحشت

    میری نیت میں ہے ناکردہ گناہوں کی تھکن

    وقت کا بوجھ لیے پھرتا رہا ہوں سرمدؔ

    جسم سے لپٹی ہے دم توڑتے لمحوں کی تھکن

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے