سرد راتوں کی ردا ڈوبتی نیندوں کی تھکن
سرد راتوں کی ردا ڈوبتی نیندوں کی تھکن
چہرۂ صبح سے ٹوٹی مرے خوابوں کی تھکن
آنکھ میں پگھلے ہوئے سانولے چہروں کی نمی
دھیان میں گونجتی خاموش صداؤں کی تھکن
ایک سایا بھی نہ ابھرا مری گلیوں کے قریب
راستے کھا گئے پتھرائی نگاہوں کی تھکن
شل ہوئے جاتے ہیں ہر پیڑ کے سوکھے بازو
ڈھل گئی زرد خزاؤں میں بہاروں کی تھکن
باغ میں پھیلتی تنہائی کے بوجھل پاؤں
گرتے پتوں کی تھکن گرم دوپہروں کی تھکن
دل پہ اک بار سا خاموش تمناؤں کی دھول
ہونٹ پر جمتی ہوئی ان کہی باتوں کی تھکن
یاد کے دشت میں سہمے ہوئے آہو کی طرح
گھومتی پھرتی رہی ہے مری سوچوں کی تھکن
اک ترے جسم کی سج دھج میں سمٹ آئی ہے
جوش تخلیق سے گھبرائے خداؤں کی تھکن
آنکھ میں آتے زمانوں کے خلاؤں کا سکوت
ذہن میں بیتی ہوئی ہانپتی صدیوں کی تھکن
میرے اعمال میں چیخے ہے بدی کی وحشت
میری نیت میں ہے ناکردہ گناہوں کی تھکن
وقت کا بوجھ لیے پھرتا رہا ہوں سرمدؔ
جسم سے لپٹی ہے دم توڑتے لمحوں کی تھکن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.