کون کہتا ہے کہ ماضی کے پرستار ہیں ہم
کون کہتا ہے کہ ماضی کے پرستار ہیں ہم
اک نئی صبح درخشاں کے طلب گار ہیں ہم
آج ہر چند کہ رسوا سر بازار ہیں ہم
پھر بھی اے جان سخن حاصل گفتار ہیں ہم
ایک لمحہ بھی نہیں جن کا جفا سے خالی
وہ بھی کس شان سے کہتے ہیں وفادار ہیں ہم
کل کا سورج ہمیں پیغام مسرت دے گا
آج مانا کہ مصائب میں گرفتار ہیں ہم
اب تو آتا بھی نہیں حسن کے جلووں کا خیال
اس طرح گیسوئے دوراں میں گرفتار ہیں ہم
ہم سے پھیلا ہے زمانے میں اجالا اے نورؔ
ظلمت شب کے لیے مطلع انوار ہیں ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.