آنکھ میں طوفان پیروں میں بھنور لے جائے گا
آنکھ میں طوفان پیروں میں بھنور لے جائے گا
حق ہتھیلی پر سجائے اپنا سر لے جائے گا
بادلوں کی فوج سورج کو بجھا سکتی نہیں
چھین کر کوئی فلک سے کب سحر لے جائے گا
صبح ہوگی خواب آنکھوں میں لیے نکلے گا وہ
شام ہوگی پھر وہ اپنی لاش گھر لے جائے گا
تخم ریزی اپنی فطرت ہے لگائیں گے ثمر
جانتے ہیں دوسرا کوئی ثمر لے جائے گا
ایک دہشت ایک وحشت ایک ویرانی سہی
ہم تو جائیں گے ادھر ہی دل جدھر لے جائے گا
وہ ہوائے تند ہے کچھ بھی نہ چھوڑے گا علیؔ
پھول سے خوشبو دعاؤں سے اثر لے جائے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.