وہ تو صرف اپنے گھرانے کے لیے سوچتے ہیں
وہ تو صرف اپنے گھرانے کے لیے سوچتے ہیں
جن کو دعویٰ ہے زمانے کے لیے سوچتے ہیں
تیری بستی سے نکل کر یہ ترے خانہ بدوش
اب کسی اور ٹھکانے کے لیے سوچتے ہیں
آتش عشق میں اب کون جلے گا کہ سبھی
پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے سوچتے ہیں
اے مرے قائد اعظم ترے چاروں بیٹے
گھر میں دیوار اٹھانے کے لیے سوچتے ہیں
گھر کو جاتے ہوئے ہر روز بہانہ کوئی
تیرے گھر کی طرف آنے کے لیے سوچتے ہیں
سارے اشعار ظہیرؔ اس کی امانت ہیں کہ ہم
ہر غزل اس کو سنانے کے لیے سوچتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.