تھوڑی سی چالاک ہے اور وہ تھوڑی ضدی لڑکی ہے
تھوڑی سی چالاک ہے اور وہ تھوڑی ضدی لڑکی ہے
پھر بھی مجھ کو لگتا ہے وہ کافی اچھی لڑکی ہے
بھیڑ بھری اس دنیا میں وہ بالکل تنہا ہے لیکن
چہرے پر مسکان سجائے ہنستی گاتی لڑکی ہے
دیکھو گے تو سوچو گے وہ تھوڑی سی لا پروا ہے
لیکن ذمہ دار بہت ہے ہمت والی لڑکی ہے
تم سے ایسے بات کرے گی باتوں میں آ جاؤ گے
خوش ہو کر یہ کہہ اٹھو گے کتنی پیاری لڑکی ہے
باہر سے وہ رعب دکھا کر سب کو سیدھا رکھتی ہے
اندر سے معصوم بہت ہے بھولی بھالی لڑکی ہے
پاکیزہ سی غنچہ دہن ہے ناز اٹھانے والی بھی
دلکش بھی جذباتی بھی وہ سیدھی سچی لڑکی ہے
اس سے ملنا چاہو گے تو پاس کہیں مل جائے گی
میری غزلوں کی زینت وہ میناؔ جیسی لڑکی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.