جو زندگی نکھار کر حسین سا کنول بنے
جو زندگی نکھار کر حسین سا کنول بنے
کمال تک پہنچ گئے تو لقمۂ اجل بنے
وہ شاعری میں ڈھل گئے رباعیوں میں آ گئے
خیال میں سما کے وہ کمال کی غزل بنے
وہ جن کا درس امن تھا امان سب کو دے گئے
جفا فنا کے دور میں وفاؤں کا بدل بنے
لبوں پہ مسکراہٹیں تھیں اور نظر میں شوخیاں
میں حال دل نہ کہہ سکا کہ درمیاں خلل بنے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.