ستم جو بھی کیے اس نے سبھی ہم بھول جاتے ہیں
ستم جو بھی کیے اس نے سبھی ہم بھول جاتے ہیں
جو گہری چوٹ ہے دل پر لگی ہم بھول جاتے ہیں
اسے اس کے گناہوں کے لیے ہم کچھ نہیں کہتے
جو اس نے دی ہے آنکھوں میں نمی ہم بھول جاتے ہیں
بھلے مسجد میں مندر میں کلیسے میں وہ رہتا ہو
اگر وہ ساتھ ہو تو تیرگی ہم بھول جاتے ہیں
ہمیں فرصت نہیں ملتی کہ خود سے بات کر پائیں
کبھی ہم یاد رکھتے ہیں کبھی ہم بھول جاتے ہیں
شکایت تجھ سے رہتی ہے دیا کچھ بھی نہیں ہم کو
جو تو نے دی ہیں سوغاتیں وہی ہم بھول جاتے ہیں
برستے بادلوں کا غم سمجھتا ہی نہیں کوئی
ہیں آنسو اس کی آنکھوں کے یہی ہم بھول جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.