جو بھی افسردۂ خطا نہ ہوا
جو بھی افسردۂ خطا نہ ہوا
وہ کبھی مائل دعا نہ ہوا
ہر کسی پر تھا اعتماد مجھے
لیکن اس بات کو زمانہ ہوا
دار پر مجھ کو کھینچنے والے
لب کشائی تو اک بہانہ ہوا
موت کی سرحدوں کو چھو کر بھی
زندگی سے مجھے گلا نہ ہوا
دیکھنا یہ ہے کون آئے گا
جب مرے گھر میں بوریا نہ ہوا
عمر بھر سوچتا رہا لیکن
ترک الفت کا حوصلہ نہ ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.