عشق مجھ سے ہے تو پھر بات کسی اور سے کیوں
عشق مجھ سے ہے تو پھر بات کسی اور سے کیوں
میرے حصے کی ملاقات کسی اور سے کیوں
مجھ سے پوچھو مرے بارے میں جو چاہو لیکن
میری حالت پہ سوالات کسی اور سے کیوں
اپنے مطلب کو لپٹ جاتا ہے وہ کیوں مجھ سے
اور محبت کی کرامات کسی اور سے کیوں
دکھ تو یہ ہے جو مرے ساتھ میں جینے تھے اسے
بانٹتا ہے وہی لمحات کسی اور سے کیوں
اس کو معلوم ہے جب اس پہ ہنسے گی دنیا
وہ بیاں کرتا ہے حالات کسی اور سے کیوں
میں نے لکھے تھے جو آنکھوں پہ تمہاری جاناں
سننے آئے ہو وہ نغمات کسی اور سے کیوں
اپنی اولاد سے بھی مل نہ سکا اس کا جواب
میل کھاتے ہیں خیالات کسی اور سے کیوں
مجھ کو یہ فکر ہے آصفؔ کہ مرے ہوتے ہوئے
میرے یاروں کو ہوں خطرات کسی اور سے کیوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.