ایسا بھی کہیں دیکھا ہے منظر اسے کہنا
ایسا بھی کہیں دیکھا ہے منظر اسے کہنا
صحرا ہے مری آنکھ کے اندر اسے کہنا
تجھ کو بھی کوئی شک ہے تو پھر آ میں دکھاؤں
شاہوں میں بھی بیٹھے ہیں گداگر اسے کہنا
کیسے میں کہوں چہرہ وہ ایسا ہے کہ جیسے
پونم کے حسیں چاند کا منظر اسے کہنا
اب اس کو مرے لمس کی خوشبو نہیں ملنی
اب عود لگائے کہ وہ عنبر اسے کہنا
ہوتا ہے کوئی خوف نہ ڈر اس کو کسی کا
اڑتا ہے ہواؤں میں قلندر اسے کہنا
تیرے ہی طرفدار تری سمت بڑھیں گے
ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے خنجر اسے کہنا
ہر بات کو سہہ لیتا ہوں چپ چاپ میں ہنس کر
جیسے کہ مرا دل ہو سمندر اسے کہنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.