Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایسا بھی کہیں دیکھا ہے منظر اسے کہنا

فیصل شہزاد

ایسا بھی کہیں دیکھا ہے منظر اسے کہنا

فیصل شہزاد

MORE BYفیصل شہزاد

    ایسا بھی کہیں دیکھا ہے منظر اسے کہنا

    صحرا ہے مری آنکھ کے اندر اسے کہنا

    تجھ کو بھی کوئی شک ہے تو پھر آ میں دکھاؤں

    شاہوں میں بھی بیٹھے ہیں گداگر اسے کہنا

    کیسے میں کہوں چہرہ وہ ایسا ہے کہ جیسے

    پونم کے حسیں چاند کا منظر اسے کہنا

    اب اس کو مرے لمس کی خوشبو نہیں ملنی

    اب عود لگائے کہ وہ عنبر اسے کہنا

    ہوتا ہے کوئی خوف نہ ڈر اس کو کسی کا

    اڑتا ہے ہواؤں میں قلندر اسے کہنا

    تیرے ہی طرفدار تری سمت بڑھیں گے

    ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے خنجر اسے کہنا

    ہر بات کو سہہ لیتا ہوں چپ چاپ میں ہنس کر

    جیسے کہ مرا دل ہو سمندر اسے کہنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے