اے منافق ترے انداز یہ اکثر ہوں گے
اے منافق ترے انداز یہ اکثر ہوں گے
گل میں پوشیدہ ترے ہاتھ میں نشتر ہوں گے
تشنگی لے کے گئے کتنے مگر ڈوب گئے
کیا خبر تھی تری آنکھوں میں سمندر ہوں گے
تیرے ہر ظلم پہ دیتے ہیں مبارک تجھ کو
ان کے سینوں میں کوئی دل نہیں پتھر ہوں گے
ہے مرے چاند میسر جنہیں قربت تیری
کیا ستاروں کی طرح ان کے مقدر ہوں گے
مجھ کو تحسینؔ کبھی ہوگی زیارت ان کی
کیا کبھی بن کے وہ مہمان مرے گھر ہوں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.