یوں خوشی سے سوئے مقتل ان کے دیوانے گئے
یوں خوشی سے سوئے مقتل ان کے دیوانے گئے
جیسے جلتی شمع پر گرنے کو پروانے گئے
میں زمانے میں ہوا رسوا تمھارے عشق میں
تم تو میرے عشق میرے غم سے پہچانے گئے
گل سے عارض برگ گل سے لب کی یاد آنے لگی
ہم گلستاں میں جب اپنے غم کو بہلانے گئے
ہے قیامت پر قیامت قامت بالائے دوست
وہ ہزاروں ہی میں کیا لاکھوں میں پہچانے گئے
آپ تک پہنچی نہ میرے کرب میرے غم کی بات
دور تک میری غم انگیزی کے افسانے گئے
ظرف مے نوشی نہ جن میں طاقت مینا کشی
کن لرزتے کانپتے ہاتھوں میں پیمانے گئے
ناصح ناداں محبت کے مسائل اور ہیں
خود نہ سمجھے اور دیوانوں کو سمجھانے گئے
کیا کہیں کس سے کہیں درد محبت سوز غم
ہم اگرچہ اہل دل اہل نظر مانے گئے
ہو گیا توحید حسن و عشق کا راز آشکار
آپ ہی خود کھو گئے جب ہم اسے پانے گئے
کس نے آسانی سے پائی ہے کمال فن کی داد
ہم نے منوایا زمانے سے تو ہم مانے گئے
دل کی خاطر اس قدر تحقیر کے با وصف بھی
پھر اسی کوچے میں تاباںؔ ٹھوکریں کھانے گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.