یوں تو دھرتی کو ماں سمجھتا ہے
یوں تو دھرتی کو ماں سمجھتا ہے
اس کی پیڑا کہاں سمجھتا ہے
کتنا مشکل ہے پرورش کرنا
بات یہ باغباں سمجھتا ہے
وہ بھلا کیا چلائے گا آری
ہر شجر میں جو جاں سمجھتا ہے
فرقہ وارانہ سوچ ہو جس کی
آدمیت کہاں سمجھتا ہے
بڑھ نہ پایا جڑوں سے کٹ کے کوئی
بات یہ کل جہاں سمجھتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.