جو مہرباں ہے ستم گر بھی رہ چکا ہے کبھی
جو مہرباں ہے ستم گر بھی رہ چکا ہے کبھی
یہی جو موم ہے پتھر بھی رہ چکا ہے کبھی
میں آسمان پہ اڑنے کے خواب دیکھتا ہوں
کہ اک خلا مرے اندر بھی رہ چکا ہے کبھی
اسی لیے اسے ملتا ہوں احترام کے ساتھ
مرا عدو مرا ہمسر بھی رہ چکا ہے کبھی
یہیں شجر تھے پرندوں کے آشیانے تھے
اسی زمیں پہ مرا گھر بھی رہ چکا ہے کبھی
یہ اور بات کہ اب یاد بھی نہیں ہیں اسے
وہ شخص ہم کو میسر بھی رہ چکا ہے کبھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.