Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جواز ہوتے ہوئے بھی وہ در نہیں چھوڑا

حارث بلال

جواز ہوتے ہوئے بھی وہ در نہیں چھوڑا

حارث بلال

MORE BYحارث بلال

    جواز ہوتے ہوئے بھی وہ در نہیں چھوڑا

    شجر سے ٹوٹے ہوؤں نے شجر نہیں چھوڑا

    ستارگی میں سہے ہیں ہزار شمس و قمر

    ترے افق پہ چمکنا مگر نہیں چھوڑا

    اس احتیاط سے ان کی گلی سے گزرا ہوں

    کسی بھی چیز پہ کوئی اثر نہیں چھوڑا

    بس آ گیا تھا یونہی خود پہ اعتبار اک دن

    وہ ہاتھ میں نے بہت سوچ کر نہیں چھوڑا

    فقط زمانوں کی سمتیں بنا کے آتے ہیں

    بہت دنوں کے لیے ہم نے گھر نہیں چھوڑا

    درخت کٹتے ہی دریا میں بہہ گئے حارثؔ

    فنا ہوئے بھی تو ہم نے سفر نہیں چھوڑا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے