جواز ہوتے ہوئے بھی وہ در نہیں چھوڑا
جواز ہوتے ہوئے بھی وہ در نہیں چھوڑا
شجر سے ٹوٹے ہوؤں نے شجر نہیں چھوڑا
ستارگی میں سہے ہیں ہزار شمس و قمر
ترے افق پہ چمکنا مگر نہیں چھوڑا
اس احتیاط سے ان کی گلی سے گزرا ہوں
کسی بھی چیز پہ کوئی اثر نہیں چھوڑا
بس آ گیا تھا یونہی خود پہ اعتبار اک دن
وہ ہاتھ میں نے بہت سوچ کر نہیں چھوڑا
فقط زمانوں کی سمتیں بنا کے آتے ہیں
بہت دنوں کے لیے ہم نے گھر نہیں چھوڑا
درخت کٹتے ہی دریا میں بہہ گئے حارثؔ
فنا ہوئے بھی تو ہم نے سفر نہیں چھوڑا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.