روشنی کے استعارے ڈل کنارا اور شام
روشنی کے استعارے ڈل کنارا اور شام
سوچتے ہیں سب ستارے ڈل کنارا اور شام
پانیوں پر آج پھر رقصاں ہے لہروں کا ہجوم
دیکھتے ہیں کیا نظارے ڈل کنارا اور شام
آج بیٹھا ہوں شکارے میں کئی یاروں کے ساتھ
آج لگتے ہیں شرارے ڈل کنارا اور شام
ہم سمجھتے ہی نہیں ہیں اس قدر دلکش زبان
کرتے ہیں کیا کیا اشارے ڈل کنارا اور شام
آج پڑھتے ہیں کسی کے ہاتھ سے لکھے ہوئے
ادھ کھلے تینوں شمارے ڈل کنارا اور شام
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.